<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>        <rss version="2.0"
            xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
            xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
            xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
            <channel>
                <atom:link href="https://www.jawandost.com/tag/8317/germany" rel="self" type="application/rss+xml" />
                <generator>Jawan Dost RSS Feed Generator</generator>
                <title>Germany - Jawan Dost</title>
                <link>https://www.jawandost.com/tag/8317/rss</link>
                <description>Germany RSS Feed</description>
                
                            <item>
                <title>فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لگانے کا عمل شروع کر دیا</title>
                                    <description><![CDATA[<p>۔</p>
<p>نیویارک، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔<br />CNN کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی طرف سے نام نہاد اسنیپ بیک پابندیوں کے نفاذ کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جو ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں ناکامی کے درمیان آئی ہے۔ تہران نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>]]></description>
                
                                    <content:encoded><![CDATA[<a href="https://www.jawandost.com/article/7606/france-germany-and-britain-have-begun-the-process-of-reimposing"><img src="https://www.jawandost.com/media/400/2025-08/france-germany-uk.webp" alt=""></a><br /><p>۔</p>
<p>نیویارک، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔<br />CNN کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی طرف سے نام نہاد اسنیپ بیک پابندیوں کے نفاذ کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جو ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں ناکامی کے درمیان آئی ہے۔ تہران نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
                
                                                            <category>International</category>
                                    

                <link>https://www.jawandost.com/article/7606/france-germany-and-britain-have-begun-the-process-of-reimposing</link>
                <guid>https://www.jawandost.com/article/7606/france-germany-and-britain-have-begun-the-process-of-reimposing</guid>
                <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 15:44:27 +0530</pubDate>
                                    <enclosure
                        url="https://www.jawandost.com/media/2025-08/france-germany-uk.webp"                         length="57374"                         type="image/webp"  />
                
                                    <dc:creator><![CDATA[Kaisher Husain]]></dc:creator>
                            </item>
            <item>
                <title>ایران، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے نائب وزرائے خارجہ جوہری مذاکرات پر ملاقات کریں گے </title>
                                    <description><![CDATA[<p>  ۔</p>
<p>جنیوا، ایران، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے نائب وزرائے خارجہ منگل کو جنیوا میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔ ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کریں گے۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ نے اگست میں کہا تھا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ، جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈفول، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 26 اگست کو نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک اجلاس منعقد</p>...]]></description>
                
                                    <content:encoded><![CDATA[<a href="https://www.jawandost.com/article/7564/the-deputy-foreign-ministers-of-iran-britain-germany-and-france"><img src="https://www.jawandost.com/media/400/2025-08/iran-nuclear-programme.jpg" alt=""></a><br /><p> ۔</p>
<p>جنیوا، ایران، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے نائب وزرائے خارجہ منگل کو جنیوا میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔ ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کریں گے۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ نے اگست میں کہا تھا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ، جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈفول، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 26 اگست کو نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ 2015 میں برطانیہ، جرمنی، چین، روس، امریکا، فرانس اور ایران نے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے کے بدلے میں اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کا بندوبست تھا۔ تاہم، امریکہ نے 2018 میں JCPOA سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، جس میں جوہری تحقیق اور یورینیم کی افزودگی سے متعلق اپنے وعدوں میں بتدریج کمی کا اعلان کیا گیا۔</p>
<p>13 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان پابندیاں ہٹانے کے لیے بات چیت روک دی گئی تھی۔امریکا نے 22 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کیے تھے۔</p>]]></content:encoded>
                
                                                            <category>International</category>
                                    

                <link>https://www.jawandost.com/article/7564/the-deputy-foreign-ministers-of-iran-britain-germany-and-france</link>
                <guid>https://www.jawandost.com/article/7564/the-deputy-foreign-ministers-of-iran-britain-germany-and-france</guid>
                <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 15:34:02 +0530</pubDate>
                                    <enclosure
                        url="https://www.jawandost.com/media/2025-08/iran-nuclear-programme.jpg"                         length="37941"                         type="image/jpeg"  />
                
                                    <dc:creator><![CDATA[Kaisher Husain]]></dc:creator>
                            </item>

            </channel>
        </rss>
        