پولیس نے وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا کر صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا
۔
مسٹر وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے 28 جون سے بھوک ہڑتال پر تھے، مختلف امتحانات میں پیپر لیک ہونے کو روکنے، تعلیمی نظام میں بہتری اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔
مسٹر وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس نے انہیں جنتر منتر سے ہٹا کر اسپتال میں داخل کرایا۔
پولیس نے بتایا کہ مسٹر وانگچک کو دہلی ہائی کورٹ کے حکم اور طبی ماہرین کے مشورے کی بنیاد پر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی روشنی میں ضروری طبی علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
پولیس نے جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب مسٹر وانگچک کو ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں بھوک ہڑتال کی جگہ سے ہٹایا جا رہا تھا، مظاہرین نے احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس سے ہنگامہ ہوا۔ تاہم پولیس نے انتہائی تحمل سے کام لیا۔
مسٹر وانگچک کی بھوک ہڑتال کا آج 21 واں دن تھا اور اس دوران ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور ان کا وزن نو کلو سے زیادہ کم ہوگیا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے جنتر منتر پر ان سے ملاقات کی اور ان کی حمایت کا اظہار کیا۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر وانگچک اور کاکروچ جنتا پارٹی نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل ہی 20 جولائی کو اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان کیا تھا اور عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی تھی۔
