بھارت نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے تبصرے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن نے ہفتہ کی رات دیر گئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی تشویش غلط ہے اور یہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کے مترادف ہے۔
مشن نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جہاں آئین پرامن اسمبلی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ حق مضبوط اداروں، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ذریعے محفوظ ہے۔ مراسلہ میں کہا گیا کہ ہر جمہوریت کی طرح امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اس حق پر بھی مناسب پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ حکام کے اقدامات قانون کے مطابق ہیں، اور عدالتیں کسی بھی شکایت کو حل کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کو غیر جانبداری اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کے اصول کے مطابق دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والے بڑے مظاہروں پر بھی اسی طرح توجہ دینی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے کہا کہ وہ دہلی میں ہفتہ کے بڑے مظاہروں سے پہلے اور اس کے دوران مظاہرین، احتجاجی رہنماؤں، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ارکان، وکلاء اور صحافیوں کی بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے کی خبروں سے پریشان ہے۔
دفتر حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پرامن اجتماع کے حق کا مکمل احترام کیا جائے اور اسے برقرار رکھا جائے۔ پرامن مظاہروں پر پابندیوں کو ضرورت اور تناسب کے سخت معیار پر پورا اترنا چاہیے۔
