سپریم کورٹ نے عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے اپنے سابقہ حکم میں ترمیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کا انتباہ دیا۔
جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا، اور این وی انجاریا کی بنچ نے منگل کو نومبر 2025 کی ہدایت میں ترمیم کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ بنچ نے جانوروں سے محبت کرنے والوں اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی درخواستوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ نس بندی کے بعد بھی ان کتوں کو واپس اسی علاقے میں نہیں چھوڑا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کا بھی انتباہ دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ پرہجوم عوامی مقامات جیسے اسکولوں، اسپتالوں، اسپورٹس کمپلیکس، بس اسٹینڈز اور ریلوے اسٹیشنوں سے پکڑے گئے آوارہ کتوں کو پناہ گاہوں میں رکھا جائے اور انہیں واپس اسی علاقے میں نہ چھوڑا جائے۔ بنچ نے اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کے ذریعہ جاری کردہ معیاری آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو بھی خارج کردیا۔ عدالت نے بچوں پر کتوں کے حملوں کے ’انتہائی تشویشناک‘ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچے شدید زخمی ہوئے ہیں، بوڑھے افراد پر حملے کیے گئے ہیں اور غیر ملکی مسافروں پر بھی کتوں نے حملہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو لوگوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ سپریم کورٹ نے "پاگل اور خطرناک کتوں" کی مرضی سے موت کی اجازت بھی دی جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔
