ایران نے امریکہ کو 'مکمل فوجی جوابی کارروائی' سے خبردار کر دیا

ایران نے امریکہ کو 'مکمل فوجی جوابی کارروائی' سے خبردار کر دیا

 

واشنگٹن/تہران: ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے اگلے دو سے تین دن تک جاری رہے تو وہ ’مکمل فوجی جوابی کارروائی‘ کا مرحلہ شروع کردے گا۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی فوج نے مسلسل ساتویں رات ایرانی فوجی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ جمعہ کی رات کی کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، اور بحری اثاثوں کا استعمال کرتے ہوئے، نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیر زمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ CENTCOM کے مطابق، حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، رات گئے ہونے والے حملوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع بندر عباس، قشم اور لارک جزائر کو متاثر کیا۔ اطلاعات کے مطابق بندر عباس-حاجی آباد ہائی وے پر پل اور ایک سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثناء ایرانی فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ اگر امریکی حملے مزید دو یا تین دن جاری رہے تو ایران بھرپور فوجی آپریشن شروع کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کوئی بھی سیاسی سرحد ایران کی جوابی کارروائی سے محفوظ نہیں رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کے لیے امریکا سے معاشی معاوضے کا مطالبہ کرے گا۔ امریکہ نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں بشمول بحرین، کویت، قطر اور اردن پر بھی حملے کیے ہیں۔

About The Author

Related Posts

Latest News