یوپی آئی چاجز امریکی دباؤ کا نتیجہ: کانگریس
On
کانگریس شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ہندوستان پر 100 فیصد ٹیرف لگانے والے بل پر بدھ کو ووٹنگ ہونی ہے جبکہ امریکی سینیٹ اسے پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف سختی کرتے ہوئے ایچ-1 بی ویزا کی لاگت بڑھا دی ہے۔ تبدیل شدہ نظام کے تحت ویزا ہولڈرز کے بے روزگار ہونے پر انہیں فوری طور پر ملک سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت نے امریکہ کے مطالبات کے آگے جھکتے ہوئے یوپی آئی پر صفر ایم ڈی آر کا التزام ختم کر کے فیس لگانے کا راستہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 0.4 فیصد ایم ڈی آر کیوں ہے اور کیا یہ اس لیے ہے کیونکہ ڈیبٹ کارڈ پر بھی ایم ڈی آر 0.4 فیصد ہے. انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ امریکی کارڈ کمپنیوں کو یوپی آئی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا اس سے یوپی آئی 'پائیدار' بنے گا، جیسا کہ حکومت کا دعویٰ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورے یوپی آئی ایکو سسٹم کو چلانے کی تخمینہ لاگت تقریباً 20,000 کروڑ روپے سالانہ ہے اور یہ رقم گزشتہ چند سالوں میں ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ مرکزی حکومت کو منتقل کی گئی رقم کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
کانگریس شعبہ مواصلات کے انچارج نے وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 'نوٹا' کا نیا مطلب 'نریندرز آن گوئنگ ٹرمپ اپیزمنٹ' کر دیا ہے
About The Author
Related Posts
Latest News
16 Sep 2026 18:03:53
۔
گاجر کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ انہیں کچا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، کچھ...
