مسلمانوں کو جذباتی ردعمل کے بجائے سیاسی بصیرت وقت کی اہم ضرورت : مولانا شبیر

مسلمانوں کو جذباتی ردعمل کے بجائے سیاسی بصیرت وقت کی اہم ضرورت : مولانا شبیر


 
پرتاپ گڑھ: جمعیتہ علماء ہند (محمود مدنی )مجلس منتظمہ رکن مولانا شبیر احمد مظاہری نے کہا کہ کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی کے کسی موقف سے اتفاق کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تمام پالیسیوں کی حمایت کی جائے،اور اسی طرح کسی پالیسی سے اختلاف کا مطلب بھی نہیں ہے کہ اس کی ہر بات مسترد کر دی جائے۔ مسلمانوں کے لئے مفید طرز عمل یہ ہے کہ سیاسی تعلقات کو دو ٹوک مخالفت یا غیر مشروط حمایت تک محدود نہ رہنا چاہیئے،بلکہ جذباتی ردعمل کے بجائے سیاسی بصیرت سے کام لیں،جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔
مولانا شبیر نے کہا کہ جہاں کوئی کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی، انصاف، مساوات، مذہبی آزادی و آئینی حقوق کے حق میں آواز اٹھاتا ہے،تو اس کی بلا تاخیر تائید کی جائے،وہیں اگر ان کے اقدامات ان اصولوں سے متصادم ہوں، ان کی دلیل و شواہد کی مخالفت کی جائے۔ سیاست میں تنقید اہم ہے،لیکن صرف تنقید مسائل کا مکمل تصفیہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی لیڈر یا سیاسی پارٹی مسلمانوں کے تحفظ، مذہبی ہم آہنگی یا سماجی انصاف کے حق میں موثر قدم اٹھائے تو اس کی تعریف کے ساتھ بھرپور حمایت کی جائے،مقصد کسی لیڈر یا سیاسی پارٹی کی تشہیر نہیں،بلکہ مثبت طرز عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے،اگرم مسلم سماج ہر مثبت اقدام کو صرف اس لئے نظرانداز کریں کہ وہ کسی مخالف لیڈر یا سیاسی پارٹی کا عمل ہے،تو ان کی سیاسی قوت میں اضافہ نہیں ہوگا۔اصولوں کی بنیاد پر تعریف و تنقید کا امتزاج انہیں ایک سنجیدہ و قابل اعتبار جمہوری فریق بنا سکتا ہے۔ تاہم کسی لیڈر  کی تعریف اس کی تمام پالیسیوں کی حمایت غور و فکر کے ساتھ ہونی چاہیئے۔ مولانا شبیر نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی صرف بی جے پی کی مخالفت تک محدود رہنی چاہیئے یا تمام سیاسی پارٹیوں سے اپنے مسائل پر بات چیت کے امکانات تلاش کرنا چاہیئے، جواب غیر مشروط حمایت تک محدود نہیں رہنا چاہیئے،بلکہ وسیع تر سیاسی رابطوں میں تلاش کرنا چاہیئے۔ تعلیم،روزگار،معاشی ترقی،سماجی انصاف،امن و امان،مذہبی آزادی و آئینی حقوق کی ترجیحات پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے سامنے واضح مطالبات کئے جائیں،اور کسی سیاسی پارٹی سے اختلاف کی بنیاد پر کسی دوسری سیاسی پارٹی کو غیر مشروط حمایت سیاسی بصیرت نہیں بلکہ اندھی تقلید ہے،اس سے مسلمانوں کو بچنے کی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

About The Author

Related Posts

Latest News