رام لیلا میدان کی ریلی نے کانگریس کے دعووں کو پوری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے: سمبت پاترا

رام لیلا میدان کی ریلی نے کانگریس کے دعووں کو پوری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے: سمبت پاترا

 

بی جے پی نے دہلی کے رام لیلا میدان میں جمع ہونے والے ہجوم اور انتخابی دھاندلی کے دعووں پر کانگریس اور راہول گاندھی کے خلاف سخت حملہ کیا ہے۔ رام لیلا میدان میں منعقدہ انڈیا الائنس کی ریلی میں ایک بڑی بھیڑ کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے پاترا نے کہا کہ کانگریس نے 10 لاکھ لوگوں کے ٹرن آؤٹ کا دعویٰ کیا تھا، لیکن گراؤنڈ میں صرف 28,000 کرسیاں رکھی گئی تھیں، جن میں سے 5000 سے 7000 خالی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ریلی نے کانگریس کے دعوؤں کو پوری طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بی جے پی کے ترجمان سمبیت پاترا نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور راہول گاندھی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے حوالے سے ایک جیسے جھوٹے اکاؤنٹس پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا الزام ہے کہ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے گئے، لیکن پارٹی کو پہلے اپنے دعووں اور زمینی حقیقت کا محاسبہ کرنا چاہئے۔
سمبت پاترا نے کہا کہ رام لیلا میدان تقریباً 10 سے 12 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ اسٹیج اور اس کے سامنے والا ڈی ایریا تقریباً 15 فیصد رقبہ پر قابض تھا۔ تقریباً 40 فیصد گراؤنڈ مکمل طور پر خالی تھا جہاں نہ کرسیاں تھیں اور نہ ہی لوگ موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گراؤنڈ میں لگ بھگ 28 ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں جن میں سے 5 ہزار سے 7 ہزار خالی تھیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ ریلی میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی، لیکن اصل صورتحال واضح نہیں تھی۔
بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ کانگریس کے دعووں کا صحیح آڈٹ کرنے سے اس کے دعووں اور حقیقت میں تضاد سامنے آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی اور کانگریس ایس آئی آر کے حوالے سے ایک جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے راہول گاندھی کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار نے فروری 2025 میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا تھا، جب کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہوئے تھے۔
بی جے پی کے ترجمان نے سوال کیا کہ اگر راہول گاندھی کے استدلال کے مطابق 2024 کے لوک سبھا انتخابات غلط تھے تو پھر اسی انتخابات کی بنیاد پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کے طور پر ان کا عہدہ بھی غلط ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو راہل گاندھی کو فوراً عدالت میں عرضی داخل کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ کوئی بھی ٹرک فوٹوگرافی سے لیڈر نہیں بنتا اور نہ ہی اس طرح کوئی وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بننے کے لیے محنت اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، "پی ایم کا مطلب صرف وزیر اعظم نہیں ہوتا، پی کا مطلب پسینہ بھی ہوتا ہے اور ایم کا مطلب محنت ہوتا ہے۔ کوئی بھی پسینہ اور محنت سے ہی وزیر اعظم بنتا ہے۔" انہوں نے کانگریس اور خاندانی سیاست پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگر حقیقی محنت کی گئی ہوتی اور اگر لوگ ان تک پہنچتے اور ان کا اعتماد جیتتے تو آج رام لیلا میدان کی تصویر کچھ اور ہوتی۔ قیادت تصویروں اور دعووں پر نہیں بلکہ محنت، جدوجہد اور عوامی اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان نے راہل گاندھی کے "محبت کی دکان" والے بیان پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ راہول گاندھی کو "محبت کی دکان" کھولنے کا لائسنس کب ملے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی جہاں محبت کی دکان کھولنے کی بات کرتے ہیں وہیں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔
راہول گاندھی پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ راہول گاندھی جی یہ ہندوستان آپ کے باپ کا نہیں ہے یہ ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے یہاں ایک چائے بیچنے والا بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس بات سے پریشان ہے کہ کیسے ایک عام آدمی جمہوریت کی سیڑھی چڑھ کر ملک کا وزیر اعظم بنا۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ یہ ملک میں جمہوریت کی طاقت ہے کہ ایک معمولی پس منظر کا فرد بھی اعلیٰ آئینی عہدہ تک پہنچ سکتا ہے۔

About The Author

Related Posts

Latest News