ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین سہ فریقی مذاکرات کریں گے: پوٹن
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے تصدیق کی ہے کہ روس، امریکہ اور یوکرین کے وفود کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 10 اور 11 نومبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوگا۔
ان مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کے خاتمے، کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی راہ تلاش کرنا ہے۔
روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ پوٹن نے جمعے کو روسی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات چیت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت منگل کو شروع ہونے کی توقع ہے اور انہوں نے روسی وفد کے حکام کو اجلاس میں مدعو کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت صدارتی معاون ولادیمیر میڈنسکی کریں گے۔ میڈنسکی اس سے قبل یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے کئی دوروں میں روس کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
میٹنگ میں روسی سلامتی کونسل کے کئی سینئر حکام بھی موجود تھے جن میں یوری اوشاکوف، میخائل گالوزین، سرگئی ریابکوف اور ملٹری انٹیلی جنس چیف ایگور کوسٹیوکوف شامل تھے۔
امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے پہلے کہا تھا کہ مذاکرات میں جنگ کے بعد کے سکیورٹی انتظامات، تناؤ میں کمی کے اقدامات، انسانی امداد اور دیرپا امن کی جانب مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکہ ان مذاکرات کو جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اہم سمجھتا ہے۔ تاہم روس نے یورپی ممالک کی براہ راست شمولیت کی مخالفت کی ہے۔
روسی صدر پیوٹن پہلے کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ عارضی جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ ایک مستقل امن معاہدے کو تنازع کی بنیادی وجوہات اور روس کی سلامتی کے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔
ابوظہبی میں سہ فریقی مذاکرات روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے پیش نظر ایک ٹھوس معاہدے تک پہنچنا ایک اہم چیلنج ہے۔
