امریکہ اور جنوبی کوریا نے جنگی حالات میں آپریشنل کنٹرول کی منتقلی تیز کرنے کا عزم کیا
On
امریکی محکمہ جنگ اور جنوبی کوریا کی وزارت قومی دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق یہ عزم 16 سے 18 ستمبر تک بوسان میں منعقد ہونے والے 29ویں کوریا-امریکہ مربوط دفاعی مذاکرات (کے آئی ڈی ڈی) کے دوران کیا گیا۔
امریکی وفد کی قیادت مشرقی ایشیا کے لیے نائب معاون وزیر جنگ جارج لی میور نے کی، جبکہ جنوبی کوریا کے وفد کی سربراہی قومی دفاعی پالیسی کے نائب وزیر ڈاکٹر کم ہونگ چول نے کی۔ مذاکرات میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے اعلیٰ دفاعی اور خارجہ امور کے حکام نے بھی شرکت کی۔دونوں فریقوں نے گزشتہ سال امریکی اور جنوبی کوریا کے صدور کے درمیان طے پانے والے مشترکہ فیکٹ شیٹ اور 57ویں سکیورٹی مشاورتی اجلاس (ایس سی ایم) کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں دفاعی تعاون سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے تناظر میں اتحاد کو جدید بنانے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا اور حالات پر مبنی جنگی آپریشنل کنٹرول (او پی سی او ین) منتقلی منصوبے (سی و ٹی پی) پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا،
’’دونوں فریقوں نے جنگی حالات میں آپریشنل کنٹرول کی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے تعاون مضبوط بنانے کا عزم کیا۔‘‘مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے دفاعی صنعت کے اہم مراکز کا بھی دورہ کیا تاکہ جہاز سازی اور ہوابازی کے شعبے میں دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال (ایم آر او) کی سرگرمیوں میں تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے اور اہم دفاعی امور پر باہمی مفاہمت کو فروغ دیا جا سکے۔
واشنگٹن اور سیئول نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے اتحاد کی سکیورٹی سے متعلق امور پر قریبی اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا.
About The Author
Related Posts
Latest News
19 Sep 2026 19:55:28
امریکہ اور جنوبی کوریا نے جنوبی کوریا کی مسلح افواج کے جنگی حالات میں آپریشنل کنٹرول (او پی سی
