دنیا ایک قابل اعتماد سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ مقام کی تلاش میں ہے۔ بھارت وہ آپشن ہو سکتا ہے: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا میں سپلائی چین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ہندوستان عالمی کمپنیوں کے لیے قابل بھروسہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا مقام ثابت ہو سکتا ہے .
مسٹر مودی نے یہاں یشوبھومی میں سیمی کون انڈیا 2026 کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ آج دنیا ایک ایسی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی جگہ کی تلاش میں ہے جو قابل بھروسہ ہو۔ ہندوستان وہ متبادل بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جو ہمیں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک پسندیدہ جگہ بناتا ہے۔ کچھ سال پہلے ہی ملک کے آئین کو 75 سال ہوئے ہیں۔ ایسا ملک جب ایک اہم صنعت میں آگے بڑھتا ہے تو اس سے پوری دنیا کی سپلائی چین کو طاقت ملتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا، "آج جب سپلائی چین کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تب تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان میں ہو رہی اس ترقی کو ہمیں اس وسیع نقطہ نظر سے بھی دیکھنا ہے۔
" انہوں نے کانفرنس میں حصہ لے رہے ملک و بیرون ملک کی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے نمائندوں سے کہا کہ ملک میں اس صنعت کے لیے صلاحیتوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ پچھلے چار سال میں 70 ہزار چپ ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹروں کے انتظام میں ایک بڑا چیلنج توانائی کا انتظام ہے۔ ان چیلنجوں کے درمیان دنیا کو مینوفیکچرنگ کے لیے نئی اور قابل بھروسہ جگہوں کی بھی ضرورت سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہندوستان اس کے لیے خود کو مسلسل تیار کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے ایک بڑاچیلنج توانائی کا تحفظ بھی ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کی مانگ بڑھ رہی ہے، ڈیٹا سینٹروں کے لیے توانائی سکیورٹی کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹروں کو بھاری مقدار میں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے پورا کرنے کے لیے توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
